کیا سود لینے اور دینے والا مجرم؟
دین اسلام کے بعض احکام کو سمجھنے میں علما کرام کا اختلاف ہوجاتا ہے ۔جن میں سے ایک سود کا معاملہ بھی ہے ۔جس میں علما کی رائے مختلف ہے ۔کچھ اہل علم کا ماننا ہے کہ سود لینے اور دینے والے پر اللہ کے رسول نے دونوں پر لعنت فرمائی ہے جبکہ دوسرا گروہ ہے جو کہتا ہے کہ نہیں صرف سود پر قرض دینے والا(سود خور) ہی مجرم ہے ۔جس نے قرض پر رقم لی تھی وہ تو بیچارہ مجبور تھا اس لیے اس کو اللہ اور اللہ کے رسول نے مجرم نہیں ٹھرایا۔ظاہر ہے دونوں طرف کے علما نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔علم میں اختلاف ہونا کوئی برائی نہیں بلکہ اس سے علم کے نئے نئے دروازے کھلتے ہیں۔علم آگے بڑھتا ہے ورنہ علم جمود کا شکار ہوجائے۔اس لیے اختلاف میں برائی نہیں ۔ہاں اگر اختلاف فرقہ کی شکل اختیار کر جائے تو یہ معاشرے کیلئے ناسور ہوتا ہے اور علم کی ترقی رک جاتی ہے ۔خیر ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ۔بات اور الفاظ میں سادگی ہمارا مشن ہے۔سود پر کئی احادیث بھی وارد ہوئی ہیں اور اللہ تعالی نے بھی اس پر اجمال میں بھی اور تفصیل سے بھی بات کی ہے۔جیسا کہ شروع میں ہم نے کہا کہ اہل علم کا ایک گروہ سود لینے اور دینے والے دونوں کو مجرم سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ صرف سود خور کو ہی۔پہلے گروہ نے تو بات ہی ختم کردی کہ حدیث میں رسول اللہ نے دونوں پر لعنت کردی اس لیے بات ختم دونوں مجرم ۔لیکن دوسرا گروہ کیسے قران و حدیث میں اس معاملے کو دیکھتا ہے ان کا نقطہ نظرآپ کے سامنے رکھتے ہیں آپ خود فیصلہ کر لیں ۔ پہلے ہم اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر احادیث کو باری باری دیکھیں گے۔سب سے پہلے ہم سود کو دیکھتے کہ سود کسے کہتے ہیں
۔
"قرض پر منعفت کے مطالبے کو سود کہتے ہیں۔"
اشیاء دو قسم کی ہوتی ہیں ۔
1-ایسی چیزیں جو استعمال کرنے پر اپنا وجود برقرار رکھ لیتی ہیں ۔ USEABLE
2-ایسی اشیا ءجو استعمال کرنے پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی-CONSUMEABLE
دوسری قسم کی اشیا ءپر سود ہوتا ہے۔اس پر زیادہ کا مطالبہ کرنے سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔
بات کو سمجھنے کے لئے سود دینے اور لینے والوں کا کوئی فرضی نام رکھ لیتے ہیں تاکہ الجھن پیدا نہ ہو مثلا
1-سود لینے والا(سود خور) (بی)
2-مقروض (سی)
یہ نام رکھ لیے ہم نے بات کو سمجھنے کے لیے بی اور سی
سب سے پہلے باری باری آیات کو دیکھتے ہیں۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی نے بڑی تفصیل سے اس پر بات کی ہے۔
سورۃ البقرۃ آیت 275-
الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِىۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ فَانۡتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ وَمَنۡ عَادَ فَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾
وہ جو سود کھاتے ہیں (ف۵۸۴) قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو (ف۵۸۵) اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود، تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، (ف۵۸۶) اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے (ف۵۸۷) اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے (ف۵۸۸) ﴿۲۷۵﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے ﴿۲۷۵﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے بی کو مخاطب کیا ہے کہ وہ لوگ قیامت میں مخبوط الحواس آدمی کی طرح کھڑے ہوں گے یعنی کس پر ناراض بی پر اور کہا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ وہی رہیں گے ۔
سورۃ البقرۃ آیت 278-
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوۡا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴿۲۷۸﴾
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو (ف۵۹۱) ﴿۲۷۸﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ﴿۲۷۸﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
اس آیت میں بھی اللہ تعالی کہہ رہا ہے کہ سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔کون چھوڑےگا ظاہر ہے بی
سورۃ البقرۃ آیت 279-
فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖۚ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَلَـكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡۚ لَا تَظۡلِمُوۡنَ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۹﴾
پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا (ف۵۹۲) اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہچاؤ (ف۵۹۳) نہ تمہیں نقصان ہو (ف۵۹۴) ﴿۲۷۹﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان ﴿۲۷۹﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
سورۃ البقرۃ آیت 280-
وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾
اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو(ف۵۹۵) ﴿۲۸۰﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو ﴿۲۸۰﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
سورۃ آل عمران آیت 130-
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡا الرِّبٰٓوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً وَّاتَّقُوۡا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ ﴿۱۳۰﴾
اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے، ﴿۱۳۰﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو ﴿۱۳۰﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
اس آیت میں بھی سود کھانے والے یعنی بی کو ہی حکم ہوا ہے۔
سورۃ النسا آیت 161-
وَّاَخۡذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدۡ نُهُوۡا عَنۡهُ وَاَكۡلِهِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِؕ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴿۱۶۱﴾
اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے (ف۴۰۶) اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، ﴿۱۶۱﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿۱۶۱﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
اس سورۃ میں بھی اللہ تعالی بی کو ہی مخاطب کر کے تنبیہ کر رہا ہے
سورۃ الروم آیت 39-
وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّيَرۡبُوَا۟ فِىۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰهِۚ وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَكٰوةٍ تُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸۴) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انہیں کے دُونے ہیں (ف۸۶) ﴿۳۹﴾
(ترجمہ: کنزالایمان)
اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں ﴿۳۹﴾
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)
اس سورۃ میں بھی اللہ تعالی نے بی کو ہی مخاطب کیا ہے ۔
اور سرزنش کی ہے کہ ایسا مال اللہ تعالی کے ہاں نہیں بڑھتا اور نہ فائدہ دے گا
یہ تقریبا آیات ہیں قرآن میں جو سود سے متعلق ہیں ۔کوئی اور ہوئی آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ان میں کسی بھی آیت میں اللہ تعالی نے کوئی منع کوئی سرزنش کوئی ناراضی کوئی عذاب کوئی سخت بات تک سی کے لئے نہیں کی ۔بلکہ اسے مظلوم کہا ہے اس کیلیے سود میں جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑنے کی تلقین کی ہے ۔اس کے لئے مہلت مانگی ہے اور آخر میں تو کہہ دیا کہ اگر صدقہ کردو تو کیا ہی بات ہے۔ جبکہ دوسری طرف یعنی بی کے لیے ہر قسم کی سزا کا کہا ہے۔ اور ان سے کہا کہ تم ظلم نہ کرو کیا ظلم نہ کرو یعنی اگر کوئی ظالم ہے تو ظاہر ہے کوئی مظلوم بھی ہوگا اور وہ مظلوم کون ہے یعنی سی ۔ جو زیادہ سود تم وصول کرو گے بی تو واصل جہنم ۔اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ کی دھمکی بھی دے دی۔
اس ساری بحث میں دیکھا کہ بی کے لیے تو بہت ہی سخت کلمات لیکن سی کے لیے ہر قسم کی رعایت کے لیے کہا اور نرم گوشہ اور رعایت ۔ہم نے قرآن کی آیات کو دیکھ لیا آپ بار بار آیات پر غور کریں اللہ تعالی نے ہر انسان کو عقل و شعور سے نوازا ہے ۔قرآن غور سے پڑھنے والا کلام ہے ۔آپ بھی غور کریں تو آپ کو بھی سمجھ میں بات آجائے گی ۔
ساری بحث کا حاصل یہ نکلا کہ ہر طرح سے بی ہی مجرم بن رہا ہے یعنی جو سود خور ہے اور سی یعنی قرض لینے والا۔ اس کےلیے رعایت،نرم گوشہ،اورمظلوم۔
اب ہم آتے ہیں احادیث مبارکہ کی طرف ان سب کو پہلے اکٹھی کرتے ہیں اور ان کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں آئی ہیں۔اور دیکھتے ہیں نبی رحمت کیا فرماتے ہیں ۔
صحيح البخاری
كِتَاب الْجَنَائِزِ
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
92. بَابٌ:
92. باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 1386 |
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ: مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ , قَالَ: فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا، فَيَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ، فَسَأَلَنَا يَوْمًا , فَقَالَ: , هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ , قُلْنَا: لَا، قَالَ: لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي، فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: عَنْ مُوسَى، إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِكَ الْكَلُّوبَ فِي شِدْقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، قُلْتُ: مَا هَذَا؟ , قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ فَيَشْدَخُ بِهِ رَأْسَهُ، فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ، فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ، وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ , فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ , وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا، فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسَطِ النَّهَرِ، قَالَ يَزِيدُ: وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ، فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا، فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ , وَشَبَابٌ , وَنِسَاءٌ , وَصِبْيَانٌ، ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ، قُلْتُ: طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ، قَالَا: نَعَمْ، أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ، قَالَا: ذَاكَ مَنْزِلُكَ، قُلْتُ: دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي، قَالَا: إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (فجر) پڑھنے کے بعد (عموماً) ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تو بیان کرو۔ راوی نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے وہ بیان کر دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر اللہ کو جو منظور ہوتی بیان فرماتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمول کے مطابق ہم سے دریافت فرمایا کیا آج رات کسی نے تم میں کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کی کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انہوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے۔ (اور وہاں سے عالم بالا کی مجھ کو سیر کرائی) وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص تو بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہمارے بعض اصحاب نے (غالباً عباس بن فضیل اسقاطی نے موسیٰ بن اسماعیل سے یوں روایت کیا ہے) لوہے کا آنکس تھا جسے وہ بیٹھنے والے کے جبڑے میں ڈال کر اس کے سر کے پیچھے تک چیر دیتا پھر دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی اسی طرح کرتا تھا۔ اس دوران میں اس کا پہلا جبڑا صحیح اور اپنی اصلی حالت پر آ جاتا اور پھر پہلے کی طرح وہ اسے دوبارہ چیرتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ کے دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک ایسے شخص کے پاس آئے جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا۔ جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جا کر اٹھا لاتا۔ ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہو جاتا۔ بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا۔ واپس آ کر وہ پھر اسے مارتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک تنور جیسے گڑھے کی طرف چلے۔ جس کے اوپر کا حصہ تو تنگ تھا لیکن نیچے سے خوب فراخ۔ نیچے آگ بھڑک رہی تھی۔ جب آگ کے شعلے بھڑک کر اوپر کو اٹھتے تو اس میں جلنے والے لوگ بھی اوپر اٹھ آتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ اب وہ باہر نکل جائیں گے لیکن جب شعلے دب جاتے تو وہ لوگ بھی نیچے چلے جاتے۔ اس تنور میں ننگے مرد اور عورتیں تھیں۔ میں نے اس موقع پر بھی پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لیکن اس مرتبہ بھی جواب یہی ملا کہا کہ ابھی اور آگے چلیں ‘ ہم آگے چلے۔ اب ہم خون کی ایک نہر کے اوپر تھے نہر کے اندر ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے بیچ میں (یزید بن ہارون اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم کے واسطہ سے «وسطه النهر» کے بجائے «شط النهر» نہر کے کنارے کے الفاظ نقل کئے ہیں) ایک شخص تھا۔ جس کے سامنے پتھر رکھا ہوا تھا۔ نہر کا آدمی جب باہر نکلنا چاہتا تو پتھر والا شخص اس کے منہ پر اتنی زور سے پتھر مارتا کہ وہ اپنی پہلی جگہ پر چلا جاتا اور اسی طرح جب بھی وہ نکلنے کی کوشش کرتا وہ شخص اس کے منہ پر پتھر اتنی ہی زور سے پھر مارتا کہ وہ اپنی اصلی جگہ پر نہر میں چلا جاتا۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں۔ چنانچہ ہم اور آگے بڑھے اور ایک ہرے بھرے باغ میں آئے۔ جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا اس درخت کی جڑ میں ایک بڑی عمر والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ بچے بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ درخت سے قریب ہی ایک شخص اپنے آگے آگ سلگا رہا تھا۔ وہ میرے دونوں ساتھی مجھے لے کر اس درخت پر چڑھے۔ اس طرح وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے گئے کہ اس سے زیادہ حسین و خوبصورت اور بابرکت گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس گھر میں بوڑھے، جوان ‘ عورتیں اور بچے (سب ہی قسم کے لوگ) تھے۔ میرے ساتھی مجھے اس گھر سے نکال کر پھر ایک اور درخت پر چڑھا کر مجھے ایک اور دوسرے گھر میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بہتر تھا۔ اس میں بھی بہت سے بوڑھے اور جوان تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم لوگوں نے مجھے رات بھر خوب سیر کرائی۔ کیا جو کچھ میں نے دیکھا اس کی تفصیل بھی کچھ بتلاؤ گے؟ انہوں نے کہا ہاں وہ جو آپ نے دیکھا تھا اس آدمی کا جبڑا لوہے کے آنکس سے پھاڑا جا رہا تھا تو وہ جھوٹا آدمی تھا جو جھوٹی باتیں بیان کیا کرتا تھا۔ اس سے وہ جھوٹی باتیں دوسرے لوگ سنتے۔ اس طرح ایک جھوٹی بات دور دور تک پھیل جایا کرتی تھی۔ اسے قیامت تک یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ جس شخص کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا تھا تو وہ ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اسے بھی یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا اور جنہیں آپ نے تنور میں دیکھا تو وہ زنا کار تھے۔ اور جس کو آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خوار تھا اور وہ بزرگ جو درخت کی جڑ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے اردگرد والے بچے ‘ لوگوں کی نابالغ اولاد تھی اور جو شخص آگ جلا رہا تھا وہ دوزخ کا داروغہ تھا اور وہ گھر جس میں آپ پہلے داخل ہوئے جنت میں عام مومنوں کا گھر تھا اور یہ گھر جس میں آپ اب کھڑے ہیں ‘ یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیکل ہیں۔ اچھا اب اپنا سر اٹھاؤ میں نے جو سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کا مکان ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے مکان میں آ جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1386]
حدیث نمبر: 2085 |
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي، فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ، وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ، فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ، رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ، فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ، فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ، آكِلُ الرِّبَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے، کہا کہ ہم سے ابورجاء بصریٰ نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات (خواب میں) میں نے دو آدمی دیکھے، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے، وہاں (نہر کے کنارے) ایک شخص کھڑا ہوا تھا، اور نہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا۔ (نہر کے کنارے پر) کھڑے ہونے والے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا۔ میں نے (اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے) پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے۔
[صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2085]
حدیث نمبر: 2238 |
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى حَجَّامًا، فَأَمَرَ بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْأَمَةِ، وَلَعَنَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عون بن ابی حجیفہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ ایک پچھنا لگانے والے (غلام) کو خرید رہے ہیں۔ اس پر میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت، باندی کی (ناجائز) کمائی سے منع فرمایا تھا۔ اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، سود لینے والوں اور دینے والوں پر لعنت کی تھی اور تصویر بنانے والے پر بھی لعنت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2238]
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" أَقَامَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِهَا، فَنَزَلَتْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77". وَقَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى النَّاجِشُ: آكِلُ رِبًا خَائِنٌ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، انہیں عوام نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ایک شخص نے اپنا سامان دکھا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اسے اس سامان کا اتنا روپیہ مل رہا تھا، حالانکہ اتنا نہیں مل رہا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں۔“ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گاہکوں کو پھانسنے کے لیے قیمت بڑھانے والا سود خور کی طرح خائن ہے۔
[صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2675]
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے ثور بن زید مدنی نے بیان کیا ‘ ان سے ابوغیث نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں بچتے رہو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2766]
حدیث نمبر: 5347 |
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرِينَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5347]
حدیث نمبر: 5945 |
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي، فَقَالَ" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَآكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اور سود لینے والے اور دینے والے، گودنے والی اور گودانے والی (پر لعنت بھیجی)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5945]
حدیث نمبر: 6857 |
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث سالم نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن غافل مومن عورتوں کو تہمت لگانا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6857]
حدیث نمبر: 262 |
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچو سات گناہوں سے جو ایمان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو اور اس جان کو مارنا جس کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے لیکن حق پر مارنا درست ہے اور بیاج کھانا اور یتیم کا مال کھا جانا اور لڑائی کے دن کافروں کے سامنے سے بھاگنا اور خاوند والی ایمان دار پاک دامن عورتوں کو جو بدکاری سے واقف نہیں عیب لگانا۔ “ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 262]
حدیث نمبر: 4093 |
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور سود لکھنے والے پر اور سود کے گواہوں پر اور فرمایا: وہ سب برابر ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4093]
یہ وہ تمام احادیث مبارکہ ہیں جن میں سودسے متعلق نبی کریم نے بات کی ہے ۔ان میں کیا بات کی ہے اس بات کا ہم گہرائی سے مطالعہ کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان میں دو احادیث صحیح مسلم کی شامل ہیں۔
ان سب احادیث میں عربی متن میں لفظ استعمال ہوا ہے ،وہ ہے أكل الربا اور مؤکله
اس کے علاوہ سود کے لیے دوسرا لفظ حضور پاک نے ان احادیث میں کوئی اور نہیں بولا۔
سب سے پہلے عربی میں ان کے معانی دیکھتے ہیں
اکل کا معنی ہوتا ہے کھانا eatingاور آکل کا معنی ہے کھانے والا
الربا کا معنی ہے سود
مؤکل کا معنی ہے کھلانے والا
جب ہم کہیں گے آکل الربا تو (سود کھلانے والا)اور مؤکل
الربا تو سود کھلانے والا اور مؤکلہ (اس کا کھلانے والا)
سب احادیث پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ نبی رحمت نے کسی حدیث میں آکل الربا و مؤکلہ کے لفظ استعمال کیے ہیں اور کسی حدیث میں صرف آکل الربا کو ہی مخاطب کیا ہے ۔سوچنے کا مقام بنتا ہے کہ کیوں اللہ کے رسول نے مؤکلہ کو چھوڑ دیا حالانکہ مجرم ہے تو ۔اور یہ بھی نہیں ہوا کہ حدیث ختم ہو گئی بلکہ اس کے بعد دوسرے مجرموں کا نام بھی لیا ہے .
چند احادیث میں اردو میں ترجمہ ہوا ہے آکل الرباومؤکلہ کا (سود لینے اور دینے والا) جو کہ صحیح نہیں ہے اس کا معنی ہوتا ہے سود کھانے والا اور سود کھلانے والا۔اس لیے جو ترجمہ سود لینے اور دینے والا کیا ہے وہ تو ہے غلط ۔یہ بات ذہن سے نکال دیں ۔ہاں یہ ضرور فرمایا کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا پر لعنت ہے ۔اب آجائیں دوبارہ قرآن پاک کی طرف ہم دیکھ آئے ہیں کہ قرآن نے سود کھانے والے کی مکمل مذمت کی ہر طرح کی وعید بھی سنائی ,اور مقروض کے بارے میں نرم گوشہ اختیار کیا ۔اب دیکھیں کہ اوپر والی جتنی بھی احادیث ہیں ان میں سود کھلانے والے کا مفہوم جو اہل علم مقروض (سی)کو لے رہے ہیں ۔کہ حضور نے مقروض پر بھی لعنت فرمائی ہے ۔قرآن نے اسے مجرم ہی نہیں ٹھہرایا بلکہ اتنا بھی نہیں کہا کہ ہم نے سود کو حرام ٹھہرادیا ہے اب تم بھی دوبارہ سود لینے مت جانا ۔تو کیا احادیث قرآن سے ٹکرا رہی ہیں ۔اگر ٹکرا رہی ہیں تو ان کو بخاری اور مسلم نے قبول کیوں کیا ,کیونکہ اصول محدثین ہے کہ جو حدیث قرآن سے ٹکرائے گی وہ قبول نہیں کی جائے گی۔اور ایسا بھی نہیں ہے کہ احادیث ضعیف ہیں۔ نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔تو کہاں پرابلم ہے۔غور سے دیکھیں تو مسئلہ آرہا ہے کھلانے والے شخص کے تعین کرنے میں کیونکہ کھانے والے کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔اور دونوں گروہوں کے اہل علم میں اختلاف بھی اسی میں ہے ۔سب احادیث کو دیکھیں تو جو صحیح مسلم کی حدیث ہے وہ سب سود کے بارے میں پورا نقشہ بتا رہی ہے کیونکہ قرآن نے ہمیں اصول فراہم کردیا تھا اور اب حدیث اس کی تفصیل کررہی ہے۔دوبارہ حدیث دیکھ لیتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4093 |
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور سود لکھنے والے پر اور سود کے گواہوں پر اور فرمایا: وہ سب برابر ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4093]
یہ حدیث اس مسئلے کو حل کررہی ہے اور تعین کردے گی کہ سود کھلانے والا کون ہے۔جس زمانے کی قرآن بات کررہا ہے اور آج بھی سود ایک کاروبار بن چکا ہے۔اس زمانے میں سود کا کاروبار ایک مہاجنی سود اختیارکر گیا تھا ۔مہاجن سود کیا ہے کہ ایک امیر آدمی ساہوکار کہہ لیں ،ہوتا ہے وہ سود کا کاروبار کرتا ہے ۔لوگوں کو پیسے دیتا ہے پھر ان سے قسطیں وصول کرتا ہے ۔وہ جب اپنے بزنس کو منظم کرے گا تو ظاہر ہے اس کے لیے کچھ اور آدمیوں کی ضرورت پڑتی ہے وہ آدمی رکھ لیتا ہے جن کی مختلف ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کی انہیں اجرت ملتی ہے ۔آج بھی اگر کوئی ادارہ یا بڑا کاروبار ہے اس میں مختلف لوگ مختلف فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔ اس میں ایک آدمی لکھنے والا ہوتا ہے جومعاملات کو کاغذی کاروائی میں لاتا ہےاور ایک آدمی یا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گاہک تلاش کرتے ہیں ۔اور ان کو آسان اقساط پر قرض فراہم کروانے کا لالچ دیتے ہیں ۔جب کوئی ضرورت کےلیے قرض لے لیتا ہے۔تو پھر وہی لوگ دوبارہ اس شخص سے قسط وصول کرتے ہیں اور لاکر مالک کو دیتے ہیں ۔اور اگر کہیں کوئی گاہک یا کلائینٹ انکار یا قسط ادائیگی میں گڑبڑ کرے تو ڈرا دھمکا کر اس سے رقم نکلواتے ہیں۔یہ لوگ جتنے کسی مہاجن کے قوت والے ہوں گے ،اس کا کاروبار اتنا ہی زیادہ اور کامیاب پھیلے گا ۔اگر کسی کے پاس یہ کمزور ہوگا تو اس کا کاروبار فیل ہوجائے گا ۔یعنی کاروبار کا سارے کا سارا انحصار انہیں لوگوں پر ہوتا ہے۔ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو جتنا مرضی سود خور مالدار ہو سال چھ ماہ میں فلاپ ہوجائے گا ۔سارے کا سارا دارومدار سود خور کا انہیں لوگوں پر ہوتا ہے۔اور ایک اس نے بیٹھک میں منشی یا منیم بٹھایا ہوتا ہے جو معاہدہ لکھتا ہے اور اس معاہدے پر دستخط کے لیے بھی اس نے گاہک کی سہولت کے لیے گواہ رکھے ہوتے ہیں تاکہ ڈیل میں تاخیر نہ ہو ۔وہ بھی اسی کے ہوتے ہیں تنخواہ وغیرہ پر۔اب اس سودکھانے والے کا پورا ہوگیا عملہ یا ٹیم۔ جیسے آجکل بنک کا عملہ ۔اب جمع کرلیں ہر پہلو کوتو واضح ہوجائے گی ساری بات اور ہر ایک کا تعین ہوجائے گا۔حضور نےاس کاروبار کو دیکھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ۔لعنت ہو کھانے والا (سود خور) ،اس کا کھلانے والا(وہ عملہ جس پر اس کے کاروبار کا پورا انحصار ہے۔جو سود پر رقم دلواتا اور پھر وصولی کرواکر کما کر لاکر سود خور کو دیتا ہے)،اس کا معاہدہ لکھنے والا اور جو دو گواہ ہیں ۔یہ جو پورا عملہ ہے سب برابر ہیں۔ قرآن نے مقروض کو قصوروار نہیں ٹھہرایا تھا ۔اب یہ تمام احادیث قرآن کے دیئے ہوئے فریم میں بلکل ٹھیک بیٹھ گیئں ۔بلکل نہیں ٹکرا رہی،یعنی اللہ اور اس کے رسول کی ایک ہی بات ہے ۔کہ انہوں نے مقروض پر نہیں لعنت کی ۔
آخر میں کھلانے والے لفظ کو سادہ مثال سے سمجھتے ہیں ۔آپ نے اپنے بیٹے کو کوئی کاروبار کرکے دیا ہے ۔جب کوئی آپ سے پوچھے کہ کیسے گذارہ چل رہا ہے آپ کہتے ہیں ،بھئی آجکل بیٹا ہی کما کر کھلا رہا ہے ۔حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے ۔کہ کاروبار میں ظاہر ہے گاہک آتے ہیں سامان خریدتے ہیں ۔ان سے جو منافع ملتا ہے وہ آپ کا بیٹا آپ کو لا کر دیتا ہے اور بیٹا آپ کے ہی متعلقہ عملہ میں سے ہوتا ہے۔لیکن آپ یہ ساری تفصیل نہیں بولتے ۔خریدنے ولوں کا نام نہیں لیتے۔صرف یہ کہ دیتے کہ بیٹا کھلاتا ہے ۔کیونکہ عرف عام میں ایسے ہی بات کی جاتی ہے ۔اسی لیے نبی کریم نے بھی عرف عام میں سودی کاروبار کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تمام کا تمام عملہ(کھانے والا،کھلانے والا،لکھنے والا اور دو گواہ)سب پر اللہ کی لعنت ہو ،سب برابر ہیں،
0 Comments