Breaking News

Subscribe Us

اسلام میں عورت کی گواہی آدھی کیوں ؟

 


اسلام میں عورت کی گواہی آدھی کیوں ؟




 

   اسلام و علیکم -آجکل مسلمانوں میں  بہت سے دوسرےاحکام کو سمجھنے کے حوالے سے جو اختلاف پاۓ جاتے ہیں۔ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ 

اسلام میں عورت کی گواہی آدھی ہے۔اب تو یہ ایک باقاعدہ طور پر غیر مسلم مرد و عورت اور مسلمان عورتوں کی طرف سے اعتراض بن چکا ہے ۔اعتراض کرنے والوں کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ ہم مساجد منبروں  پہ اور کتابوں  میں یہ سنتے اور پڑھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے عورت کی کوئی عزت نہیں تھی۔ اسلام نے آکر عورت کو عزت دی ۔اور جب سوال کیا جاتا ہے کہ عزت تو اس شخص کی ہوتی ہے جس کی بات کی، قول کی اہمیت ہو۔چار بندوں میں جس کی بات کو مانا اور سراہا جاۓ ۔ عورت کو اگر اسلام نے عزت دی ہے تو اس کی گواہی آدھی کیوں کر دی۔بلکہ شاید پاکستان کے قانون میں تو عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں مانی ہی نہیں جاتی۔ تو کیا یہ عزت ہے یا ہتک - یہ وہ سوال یا کنفیوزن ہے جولوگوں  خاص طور پر عورتوں اور غیر مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے۔اور المیہ یہ ہے کہ جب علماکرام کے سامنے کوئی سوال کرتا ہے تو وہ جواب میں قرآن پاک کی آیت پیش کردیتے ہیں۔اور اگر آگے دوبارہ سوال ہو جاۓ  کہ یہ تو پھر عورت کی کوئى عزت نہ ہوئى تو جھنجلا کرکہ دیتے کہ آجکل لوگ دین سے متنفرہو رہے ہیں یعنی دین کو یا دین کے مخاطبین کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہوۓ نظرآتے ہیں خود کی طرف دھیان نہیں دیتے کہ شاید کہیں صحیح جواب دینے میں ہم تو ناکام نہیں ہورہے۔اور جھٹ سے سوال کرنے والے پر مغربی تہذیب کا دلدادہ، لیبل لگا دیتے ہیں۔سائل بیچارہ خود ہی دوبارہ سوال نہیں کرتا کہ کہیں گستاخ رسول یا سیکولر،لبرل کا فتوی لگا کر قتل ہی  نہ کروادیں ۔یہ حال ہے اکثر علما کرام کا ۔خیر ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ۔بہت ہی سادہ الفاظ میں ہم قرآن میں عورت سے متعلق گواہی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔الفاظ میں سادگی ہمارا مشن ہے تاکہ ہر ایک کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

سب سے پہلے ہم قرآن پاک کی بارگاہ میں خالی الذہن ہو کر حاضر ہوں گے پھر جو وہ حکم دے سر تسلیم خم۔

 جتنی بھی آیات مبارکہ قرآن پاک میں گواہی سے متعلق آئى ہیں ہم ان کو اکٹھی کر لیتے ہیں۔ان کا پھر باری باری جایزہ لیتے ہیں۔

1-سورۃ البقرۃ آیت نمبر 282۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَايَنۡتُمۡ بِدَيۡنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكۡتُبُوۡهُ‌ؕ وَلۡيَكۡتُب بَّيۡنَكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ‌ وَلَا يَاۡبَ كَاتِبٌ اَنۡ يَّكۡتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ‌ فَلۡيَكۡتُبۡ ‌ۚوَلۡيُمۡلِلِ الَّذِىۡ عَلَيۡهِ الۡحَـقُّ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبۡخَسۡ مِنۡهُ شَيۡـًٔـا‌ؕ فَاِنۡ كَانَ الَّذِىۡ عَلَيۡهِ الۡحَـقُّ سَفِيۡهًا اَوۡ ضَعِيۡفًا اَوۡ لَا يَسۡتَطِيۡعُ اَنۡ يُّمِلَّ هُوَ فَلۡيُمۡلِلۡ وَلِيُّهٗ بِالۡعَدۡلِ‌ؕ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُوۡنَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰٮهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحۡدٰٮهُمَا الۡاُخۡرٰى‌ؕ وَ لَا يَاۡبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا‌ؕ وَلَا تَسۡـَٔـمُوۡۤا اَنۡ تَكۡتُبُوۡهُ صَغِيۡرًا اَوۡ كَبِيۡرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ‌ؕ ذٰلِكُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّهٰدَةِ وَاَدۡنىٰۤ اَلَّا تَرۡتَابُوۡٓا‌ۚ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيۡرُوۡنَهَا بَيۡنَكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَكۡتُبُوۡهَا‌ؕ وَاَشۡهِدُوۡۤا اِذَا تَبَايَعۡتُمۡ‌ؕ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيۡدٌ‌ ؕ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌ ۢ بِكُمۡ ؕ وَ اتَّقُوۡا اللّٰهَ‌ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ‏ ﴿۲۸۲


اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو (ف
۵۹۷) تو اسے لکھ لو (ف۵۹۸) اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے (ف۵۹۹) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے (ف۶۰۰) تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھا تا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بے عقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے (ف۶۰۱) تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے، اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے (ف۶۰۲) پھر اگر دو مرد نہ ہوں(ف۶۰۳) تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو (ف۶۰۴) کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلادے، اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں (ف۶۰۵) اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں (ف۶۰۶) اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو (ف۶۰۷) اور نہ کسی لکھنے والے کو ضَرر دیا جائے، نہ گواہ کو (یا، نہ لکھنے والا ضَرر دے نہ گواہ) (ف۶۰۸) اور جو تم ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا، اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے، ﴿۲۸۲
(ترجمہ: کنزالایمان)

مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے  ﴿۲۸۲
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)

-سورۃ النور آیت نمبر 4 

وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡهُمۡ ثَمٰنِيۡنَ جَلۡدَةً وَّلَا تَقۡبَلُوۡا لَهُمۡ شَهَادَةً اَبَدًا‌ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَۙ۔

اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو (ف۹) اور وہی فاسق ہیں، 

 (ترجمہ: کنزالایمان)

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں  ﴿۴

سورۃ النور آیت نمبر6 

 

وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ‌ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيۡنَ

ور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں (ف۱۱) اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے (ف۱۲) ﴿۶
(ترجمہ: کنزالایمان)اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک وہ سچا ہے  ﴿
۶
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)

سورۃ النور آیت نمبر 7 

 

وَالۡخَـامِسَةُ اَنَّ لَـعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ

اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر جھوٹا ہو، ﴿۷
(ترجمہ: کنزالایمان)

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت  ﴿۷
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)

سورۃ النور آیت نمبر 8 

 

وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰدٰتٍۢ بِاللّٰهِ‌ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَۙ‏ 

اور عورت سے یوں سزا ٹل جائے گی کہ وہ اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے (ف۱۳) ﴿۸
(ترجمہ: کنزالایمان)

اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک یہ جھوٹا ہے  ﴿۸
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)

سورۃ النور آیت نمبر 9 

 

وَالۡخَـامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ

ور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد جھوٹا ہے (ف۱۳) اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو (ف۱۴) ﴿۹
(ترجمہ: کنزالایمان)اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب (نازل ہو)  ﴿
۹
(ترجمہ: فتح محمد جالندھری)

سورۃ النور آیت نمبر 10 

 

وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول فرماتا حکمت والا ہے، ﴿۱۰
(ترجمہ: کنزالایمان)

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں۔ مگر وہ صاحب کرم ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا حکیم ہے  ﴿۱۰

سورۃ النساء آیت نمبر 15- 

وَالّٰتِىۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ مِنۡ نِّسَآٮِٕكُمۡ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِىۡ الۡبُيُوۡتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰٮهُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا‏ 

اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) ﴿۱۵
(ترجمہ: کنزالایمان)

مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی)گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے  ﴿۱۵

 

    

سب سے پہلے سورۃ البقرۃ آیت  نمبر282-کو دیکھتے ہیں ۔اس میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کسی بھی پنچایت ،عدالت ،قاضی یا کسی بھی منصف کے آگے گواہی دینے کی بات نہیں ہو رہی ۔یہاں تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ آپ نے کوئى چیز ادھار بیچی  ہے  یا کوئى ادھارکا لین دین کیا ہے تو یاداشت کےلیے لکھ لو اوراس کےلیے دو مردوں کے سامنے لکھ لکھا کرلو تاکہ کوئی نزاع پیدا نہ ہو اور اگر دو مرد نہیں ملتے تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لو۔اب یہاں نکتہ غور سے سمجھنے کا ہے ۔آیت میں لفظ آیا ہے استشھدوا(گواہ بنا لو)۔آگے آنے والی آیات میں بھی یہ لفظ آیا ہے اس پر بھی غور کریں گے۔گواہ بنا لو یعنی گواہ کا اختیار معاملہ لکھنے والے کے ہاتھ میں ہے۔ اپنی مرضی سے جو چاہے وہ گواہ بنا لے۔لیکن عدالتی جو معاملات ہوتے ہیں ان میں گواہ کس کو قبول کرنا ہے کس کو نہیں یہ قاضی یا عدالت کی صوابدید پر ہوتا ہے ۔عدالت کا فرض ہوتا ہے انصاف فراہم کرنا ۔اس کے لیے  جس پرعدالت مطمئن ہوجائے۔چاہے عدالت کسی ویڈیو ،فنگرپرنٹ،ڈی این اے،کوئی فرازنک رپورٹ ہو یا موقع واردات پرکوئی بچہ یا کوئی عورت  ہو وہ گواہی دےدے کہ چوری،ڈاکہ یا قتل کے وقت اس نے پہچان لیا کہ یہ تو ہمارا فلاں رشتہ دار یا ہمسایہ ،دوست ہے ۔اور عدالت مطمئن ہو جاۓ تو وہ کیا وجہ ہے کہ ان کی گواہی کو نہ مانے۔اور آپ نے دیکھا  کہ  عدالتی  کاروائی میں گواہ کا سارا اختیار قاضی پر ہوتا ہے ۔وہ جس کی چاہے  گواہی قبول کرے اور جس کی چاہے قبول نہ کرے۔ لیکن اس آیت میں اللہ تعالی لکھنے والے کو حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنی مرضی سے جو بھی پسند ہو گواہ بنا لو۔اگر عورت کی گواہی مرد سے آدھی ہے تو مرد کہ سکتا تھا کہ اگر میری گواہی کامل ہے پوری ہے تو دوسرے مرد کو ساتھ ملانے کا کیا تک بنتا ہے ۔میں نے گواہی دے دی کہ فلاں حادثہ یوں ہے تو مان لینی چاہئے۔اس طرح تو دوسرےمرد کو ساتھ ملانا یعنی مجھ پر بھی یقین نہ ہونا ۔ اس لئے اصل میں اللہ تعالی کا یہ منشا ہی نہیں تھا کہ وہ کوئی مرد اور عورت کی عقل و فراست کا تقابل کروارہا ہے ۔بلکہ وہ ایک گھریلو معاملے کو تنازع سے بچنے کی تدبیر بتا رہا ہے۔ نہ یہ کوئی عدالت کی بات کررہا ہے۔عدالت کی بات آگے والی آیات میں ہوگی آپ ملاحظہ فرمانا۔یہاں صرف دوسری عورت کا نام آیا اس لیے لوگوں نےسمجھا کہ شاید ایک عورت میں عقل کی کمی تھی   اس لیےعورت کے ساتھ ایک اور عورت کو لگا کر دو عورتیں کردیا نہیں بھئی ایسا بالکل بھی نہیں ۔ ترجمہ میں ملاحظہ کیا آپ نے  (تضل)کا معنی  بھولنا کیا ہے حالانکہ اس کا معنی  یہ نہیں ہے۔اس دوسرے گروپ میں بھی تو ایک مرد ہے ناں ۔اگر عورت کے ذمے ہی عورت کو رکھ دیں تب بھی کوئی اس کی عقل و شعور کا معاملہ نہیں بلکہ عورت کی زندگی کی ترتیب ہی کچھ ایسی ہے ۔پہلی بات جو اصل وجہ ہے وہ یہ کہ یہ آیت کاروباری معاملات کی ہے اور اصلا  کاروبارکی کوئی بھی ذمہ داری عورت کی ہے ہی نہیں۔ ہم جانتے ہیں جو انسان کی فیلڈ نہیں ہوتی اس میں وہ بالکل لاپرواہ ہوتا ہے اس کے بارے میں نالج اور دلچسپی نہیں ہوتی ۔اور دوسری بات عورت کی زندگی کچھ اس طرح بٹی ہوتی کہ ایسے معاملات اس کے لئے مشکل ہوتے ہیں ۔مثلا مہینے میں آٹھ دس دن حیض میں گزر جاتے ہیں پھر اگر حاملہ ہوگئی تو نو ماہ میں سے پانچ چھ ماہ تو اس کو کافی مشکالات اور  آجکل تو جب ڈاکٹر بتا دیتا ہے تب سے مکمل بیڈ رسٹ ۔سفر نہیں کرنا وغیرہ اس کے بعد بچہ پیدا کرنا پھر 40 دن بالکل گھر سے  باہر نہیں آنا،بچہ کی پرورش سال میں کتنے دن تو اس کے ایسے گزرتے ہیں اور پھرتھوڑے ماہ بعد دوسرا بچہ پھر سے دوبارہ اور اگر خدانخواستہ خاوند نے طلاق دے دی تو 3 ماہ عدت باہر نہیں جانا اور اگر شوہرفوت ہو جائے تو پھر چار ماہ دس دن عدت اس کے برعکس مرد کیلیے ان میں سے کوئی معاملہ نہیں اس لیے صرف گھریلو معاملے میں دو عورتوں کو ایک مرد کے ساتھ رکھ دیا کہ اگر کہیں بات میں غلطی  ہونے لگے تو دوسری عورت تصیح کرنے میں مدد کرے۔ اور  اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کا جو شعبہ یا ماحول  یا عادت نہ ہو وہ اگر کبھی کبھار کرنا ہو تو کافی مشکل آتی ہے یا ٹھیک سے ہو نہیں پاتا  مثلا اکثر  دیکھا ہوگا کہ کوئی مقرر ہو ،مولوی ہو  ، وہ اسٹیج  پر فرفر پرتقریر کررہا ہوتا ہے لیکن اگر یہی کام اک ان سے بھی ذہین پڑھے لکھے آدمی کو کہو کہ اسٹیج پر تقریر کرے ،ہو سکتا وہ بول بھی نہ سکے کیوں کیونکہ اس کا یہ متعلقہ شعبہ نہیں تھا  نہ اس لیے کہ وہ بھلکھڑ  یا  غبی  یا  کم عقل ہے ۔بلکل لین دین ،کاروبار  عورت  کا شعبہ نہ ہے ۔

اب آئیے دوسری آیات کی طرف -اب دیکھتے ہیں کس کی گواہی آدھی اور کس کی گواہی پوری ہے ۔

سورۃ الطلاق کی آیت نمبر 2 میں اللہ تعالی نے فقط 2 گواہ بنانے کو کہا ہے اس میں کوئی مرد عورت کی تخصیص نہیں کی۔ ہو سکتا 2 مرد یا 2 عورت۔اس میں نہیں کہا دو مرد یا دو عورت   حالانکہ یہ بھی گواہی کی بات کی ہے۔

سورۃ النور کی آیت 4-10 میں ایک خاوند اور بیوی کے درمیان معاملہ ہے یعنی مرد اور عورت کا مقابلہ ہے اس میں جو خاوند کے لیے حکم ہے وہی بیوی کےلیے ہے ،اگر خاوند کو چار بار اللہ کی قسم کی گواہی دینی پڑی تو بیوی کو بھی چار ہی قسمیں اٹھانی ہوگی یہ نہیں ہوا کی چونکہ وہ عورت ہے اس لیےمرد کے مقابلے میں دگنا آٹھ قسمیں کھاۓ یا کسی کو ساتھ ملاۓ یا عورت کی گواہی مانی نہیں جاۓ گی ۔یعنی دونوں برابر۔

اب آئیے اسی سورۃ النور کی آیت نمبر4 میں

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر کوئی پاکدامن عورت پر الزام لگائے تو چار گواہ لائے۔غور کرو تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف 1 عورت ہے اور دوسری طرف 4 گواہ۔ ہوسکتا وہ 4 مرد ہوں، ہوسکتا 2 مرد 2 عورت ہو، یا 4 عورت کوئی تخصیص نہیں۔ اب اندازہ کریں کہ 1 عورت کا تقابل چار چار لوگوں سے ہے ۔اور سونے پہ سہاگہ کہ اگر چار گواہ پورے نہ کر سکے 2 یا 3 ہوئے تو ان تینوں کو نقد 80 کوڑوں کی سزا ہے ۔اور ساری زندگی کےلیے گواہی بھی معطل ۔کسی پنچائیت یا عدالت یا چار لوگوں میں بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔1 عورت 3 پر بھاری ہوگئی ۔

اب دیکھیں سورۃ النساء آیت 15 میں

اس آیت میں اللہ تعالی نے کتنی کڑی شرط لگائی کہ اگر عورت بدکاری کی مرتکب ہو تو ضروری ہے کہ مسلمانوں ہی سے چار گواہ لاؤ گے تو تمہاری بات مانی جائے گی ۔یہاں بھی 1 عورت اور مقابلے میں ہو سکتا چار مرد یعنی 1 اور چار کا مقابلہ

اس ساری بحث کو سامنے رکھ کر خود فیصلہ کریں کہ کیا واقعی عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی ہے ۔ اگر ہم روز مرۃ کے معمول میں دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم کس طرح عورت کی گواہی کو مان رہے ہوتے ہیں اس میں ہمیں کبھی کوئی تردد بھی  نہیں ہوتا مثلا زچگی کے دوران سب سے پہلے ہمیں لیڈی ڈاکٹر آکر بتا دے کہ لڑکا ہوا ہے تو ہم فورا مان لیتے ہیں دیکھے بغیر کہ لڑکا ہی ہوگا یہ کیا اس کی گواہی نہیں ہے اس طرح اگر وہ کہہ دے کہ جڑواں بچے ہوۓ اور یہ والا پہلے ہوا اور یہ والا بعد میں تو ہم ساری زندگی اس کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا مانتے رہتے ہیں صرف عورت کی گواہی دینے پر۔اب کیوں ہم اس کو آدھی گواہی نہیں مانتے یا  ریجیکٹ نہیں کرتے ۔ اس کے علاوہ اگر دین کی بات کرے تو حضرت عایشہ رض سے ہمیں تقریبا 2 ہزار سے بھی زیادہ احادیث ملی ہیں اور نبی کی حدیث بیان کرنے سے زیادہ بڑی گواہی کون سی ہوگی۔کیا ہم ان کو کہہ سکتے ہیں چونکہ وہ عورت تھی اس لیے ان کی حدیث نہیں قبول ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔بڑے بڑے صحابہ ان سے احادیث پوچھتے تھے۔سب سے بڑی فقیہا تھی۔اب اگر یہ کہہ دیں کہ وہ خاص تھی تو معذرت کے ساتھ جو سورۃ البقرۃ کی آیت 282کو   بیناد  بنا کر عورت کی گواہی کو آدھی مانتے ہیں تو آیت میں کہیں بھی خاص اور عام کا ذکر نہیں ۔وہاں صرف عورت ذات کے بارے میں لکھا ہے۔آخر میں معاملہ آپ کے سامنے  ہے

 اتنا ضرور بتا دوں کہ ہمارے نوے فیصد علماکرام یہی آدھی گواہی پر زور دیتے ہیں ۔اور اگر کوئی دوسری بات کرے تو کہیں گے تم لوگ مغربی معاشرے کو پرموٹ کرتے ہو ۔نام نہاد مسلمان ہو لبرل ہو عورتوں کو مردوں کے مقابلے لانا چاہتے ہو۔حالانکہ اس میں  صرف اللہ تعالی کے حکم کو سمجھنے کی کوشش  کی گئی ہے۔

دیکھا جائے تو اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ معاملے کو صحیح سمجھنا چاہئے جو قرآن پاک کہہ رہا ہے اس کو صحیح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالی ہم سب کو قرآن پاک کو صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔

 

 

 

 

                                                 

Post a Comment

0 Comments