حضرت محمدؐ سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ رض کی عمر مبارک۔
پایا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ رض کی عمر
مبارک نکاح کے وقت کتنی تھی ۔ان میں کچھ علما کرام یہ کہتے
ہیں کہ ان کی عمر نکاح کے وقت 6 سال
اور رخصتی کے وقت 9سال تھی۔ لیکن دوسرا علما کا گروہ کہتا ہے
کہ نہیں ان کی عمرنکاح کے وقت 18 سال اور رخصتی کے
وقت 20سال تھی ۔ظاہر دونوں طرف کے
علما کے پاس دلائل ہوں گے ۔ہم ان کا جائزہ لینے کی
کوشش کرتے ہیں۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ 18 سال اور 20 سال والے کیا کہتے ہیں۔
تین باتیں ہیں جن پر تاریخ دانوں اور محدثین کے
درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے
1-حضرت عائشہ کا رشتہ نبی رحمت کے نکاح سے پہلے کہیں اور
طے تھا۔
2-حضرت اسما 100 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔
3--حضرت عائشہ اپنی بہن حضرت اسما سے دس سال چھوٹی تھیں۔
اب ہم ان تینوں باتوں کا باری باری جائزہ لیتے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ رض کا رشتہ بنو نوفل کے سردار
مطعم بن عدی کے بیٹے سے طے تھا ۔
جس کا علم حضرت خولہ رض کو نہیں تھا ۔ایک دن وہ رستہ میں
نبی رحمت کو ملی ۔اور کہنے لگی کہ میں
دیکھتی ہوں کہ حضرت خدیجہ رض کی وفات کے بعدآپ بہت چپ
چپ سے رہنے لگے ہیں۔مجھے
معلوم ہے کہ آپ پر نبوت کا بوجھ ہے۔اور
اہل مکہ کی بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنہ ہے۔ اور گھر کو
سنبھالنا ایسے میں اکیلے کافی مشکل ہوتا ہے ۔حضرت
خدیجہ نبی کی بیوی حضور ؐ کی 50 سال کی عمر میں
وفات پاگئی تھیں۔تو حضرت خولہ نے کہا کہ کیوں نہ آپ
شادی کرلیں۔تو آپ نے فرمایا کہ آپ تو
جانتی ہیں سب حالات، ایسے میں کون مجھ سے شادی کرے گا
تو انہوں نے جواب دیا کہ رشتے تو دو ہیں
اگر آپ ہاں کریں تو۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم بھی عام
اپنی زبان عرف عام میں رشتہ کس وقت کہتے
ہیں۔کیا ہم کسی 6 یا 7 سال کی بچی کے لیے بولتے ہیں
۔نہیں ۔ جب ھم رشتہ کا لفظ بولتے ہیں تو اس کا
مطلب ہوتا ہے کہ کوئی لڑکی یا لڑکا شادی کی عمر کو
پہنچ چکا ہے اور وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔کم سنی کے لیے
رشتہ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔اب آگے چلیں ایک ایک بات
کا جائزہ لیتے ہیں۔نبی رحمت نے پوچھا کہ کون
ہے۔تو حضرت خولہ نے عرض کیا کہ ایک بکر ہے اور ایک بیوہ۔عربی
زبان میں بکر اسے بولا جاتا ہے جو
کنواری ہو اور جوان ہو۔
تو حضور نے پوچھا کہ کنواری کون اور بیوہ کون ہے ۔انہوں نے
عرض کیا کہ کنواری آپ کے دوست
ابوبکر کی بیٹی عائشہ ہے اور بیوہ حضرت سودا ہے۔ جو
اس وقت تقریبا 50 برس کی تھیں۔آپ نے فرمایا
کہ پوچھ دیکھو۔وہ وہاں سے آئی اور حضرت ابو بکر کے
گھر گئیں اور ان سے رشتہ پوچھا تو حضرت ابو بکر
نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رض کا رشتہ تو طے ہے ۔لیکن
وہ لوگ شادی کرنے میں سستی دکھا رہے ہیں
۔کئی ایک بار ان سے کہا بھی ہے لیکن انہوں نے ٹال
مٹول ہی کیا ہے۔مجھے لگ رہا ہے کہ اب وہ رشتہ
نہیں کرنا چاہتے ۔میں ایک بار ان سے پوچھ لوں۔غور کرنے کی بات ہے کہ اگر حضرت عائشی کی عمر
حضور سے نکاح کے وقت 6سال تھی تو جب پہلا
رشتہ ہوا یا منگنی ہوئی تو حضرت عائشہ کی عمر تقریبا چار
ساڑھے چار سال رہی ہوگی ۔کیونکہ جب رشتہ
یا منگنی ہوتی ہے تو انسان دوچار ماہ دیکھتا ہے۔ پھر کہتا ہے
کہ شادی کرلیں پھر اگر ٹال دیں تو چار چھ ماہ پھر نکل
جاتے ہیں ۔پھر دوبارہ انسان کہتا ہے ۔اس رشتے
میں بھی دوچار بار ایسا ہی ہوا۔ظاہر ہے
ڈیڑھ دو سال گزرے ہیں۔اگر اتنا وقت پہلے کی منگنی ہے تو پھر
صاف ظاہر ہے پہلے رشتے کے وقت حضرت عائشہ کی عمر
مبارک چار ساڑھے چار سال ہوگی ،جو کہ رشتہ
کرنے کے لیے نہ مناسب سی
لگتی ہے۔ حضرت ابوبکر کو محسوس ہونے لگا کہ یہ رشتہ ہوتا
نظر نہیں
آتا۔وہ اٹھ کرمطعم بن عدی کے گھر گئے ہیں۔اور انہوں
نے رشتہ کرنے سے انکار کردیا۔حضرت
ابوبکر نے آکر حضرت خولہ کو بتایا کہ ہمیں نبی کریم
کا رشتہ قبول ہے۔ادھر حضرت خولہ حضرت سودا
کو بھی پیغام دے چکی تھی تو اس طرح دونوں یکے بعد
دیگرے حضور کے نکاح میں آگئی ۔اور نبی کریم
نے حضرت سودا کی رخصتی کر لی ۔اس واقعے سے صاف ظاہر
ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رض جوان تھی
کہ ان کے رشتے آئے تھے۔
دوسرا ثبوت یہ ہے کہ حضرت اسما حضرت عائشہ کی بڑی بہن تھی
۔باپ سے سگی۔جب عبدالملک کے
دور میں حجاج بن یوسف نے مکہ پر حملہ کیا تو اس وقت
حضرت عبداللہ بن زبیر کی مکہ میں حکومت تھی ۔
اور حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو12 جمادی الاول 73ھ کو
شہید کردیا۔اس وقت حضرت اسما
زندہ تھی اور ان کی عمر 100 سال تھی۔آٹھ دس دن بعد وہ
بھی فوت ہوگئی۔ یہ سن 73 ھ کا واقعہ ہے
یعنی سن 73ھ میں ان کی عمر 100 سال تو ھجرت کے وقت ان کی
عمر 28 سال ہوئی ۔اورحضرت عائشہ
رض کی عمر ھجرت کے وقت 18 سال ہوئی ۔ کیونکہ وہ ان سے
10 سال چھوٹی ہیں۔اور ایک سال پہلے
نکاح ہوا تو نکاح کے وقت عمر مبارک 17 سال ہوئی اور
جنگ احد سے چند ماہ پہلے رخصتی ہوئی تو جنگ احد
2 ھ میں ہوئی تو رخصتی کے وقت عمر مبارک 20 سال کچھ
ماہ بنے ۔
دوسری بات کہ جنگ میں نبی کریم بچوں کا حصہ لینا منع
فرماتے تھے ۔ 14 اور 15 سال کے لڑکوں کو بھی
جنگ میں جانے کی اجازت نہیں تھی ۔حضرت انس
کہتے ہیں کہ جنگ احد میں حضرت ام سلیم اور
حضرت عائشہ پانی کے مشکیزے بھر بھر کر لا رہی
تھیں،اور زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں۔جنگ میں
شامل تھیں۔اگر 14 یا 15 سال کے لڑکوں کو اجازت نہیں
تھی تو9 سال کی حضرت عائشہ کو کیسے اجازت مل گئی۔
اس کے علاوہ اسلام قبول کرنے
والے پہلے سال کے بچوں میں عائشہ بنت ابوبکر کا نام آتا ہے۔ظاہر ہے
جب کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اس کی عمر کم سے کم
پانچ چھ سال تو ہوتی ہے۔اس حساب سے بھی ان
کی عمر نکاح کے وقت 18 یا 19 سال بنتی ہے۔
اب ہم احادیث مبارکہ کو دیکھتے ہیں۔
ہشام سے ان کے والد (عروہ بن زبیر)
نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ
کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات
کے تقریباً 2 سال بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر 6 سال تھی
جب رخصتی ہوئی تو وہ 9 سال کی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ
الْأَنْصَارِ/حدیث: 3896
ہشام
سے ان کے والد عروہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ
رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر6 سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو
ان کی عمر 9 سال کی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 9 سال تک
رہیں۔ صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5158
یہ
اور اس کے علاوہ چند اور احادیث ہیں جن میں لکھا ہے کہ نبی کریم نے حضرت
عائشہ سے 6 سال کی عمر میں نکاح کیا اور 9 سال کی عمر میں خلوت فرمائی۔یہ
احادیث ھشام بن عروہ سے نقل ہوئی اور ھشام
حضرت عائشہ کے نواسے ہی لگتے تھے۔حضرت ھشام حضرت امام
مالک اور حضرت امام ابو حنیفہ کے استاد تھے ۔70 سال مدینہ منورہ میں رہے۔
لیکن امام مالک اور امام ابوحنیفہ سے کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی۔کیا وجہ ہے۔ھشام بن
عروہ 71 سال کی عمر میں سن 131ھ میں مدینہ سے عراق چلے گئے اس وقت ان کا
حافظہ ٹھیک نہیں رہا تھا ۔حافظ ذھبی نے ان سے متعلق لکھا ہے۔وہاں امام بخاری
اورامام مسلم موجود تھے اس لیے یہ احادیث بخاری اور مسلم میں آئی ہیں اس وقت
کہ جب ان کا حافظہ ٹھیک نہیں تھا۔اس میں بولنے میں یا لکھنےمیں "ستہ
عشرۃ" اور "تسعہ عشرۃ" کی بجاۓ
"ستہ" اور "تسعہ" سنا یا لکھا گیا۔جس کی وجہ سے آگے آگے یہی معروف
ہوگیا کہ عمر مبارک 6 اور 9 سال تھی۔
پوری تفصیل آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔باقی واللہ عالم۔
0 Comments